بلا عنوان

کہتے ہیں بڑھاپے میں انسان سٹھیا جاتا ہے ہم تو اس فلسفے کو اسی دن مان چکے تھے جب ہم نے حوش سنبھالا تھا۔۔ مگر بزرگی کا احترام بھی ضروری ہے سو ہم اپنے ملک پالستان کے سٹھیائے ہوئے بڈھوں کو برداشت کرنے لگے مگر برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور جس دن یہ حد پار ہوئی اس دن یہ بیس بیس سال کے لونڈے ان ستر ستر سال کے بڈھوں کو گود میں اٹھا کر ایدھی سینٹر چھوڑ آئیں گے۔ ۔

ویسے حد تو کافی پہلے پار ہو چکی ہے مگر وہ کیا ہے نہ آجکل کے لونڈوں کو دیر سے سو کر اٹھنے کی عادت ہے۔۔

Advertisements

کیا گدھے کو باپ بنانے والا وقت آگیا ??

​تو ایسا ہے کہ اب بہت برے دن آچکے ہیں۔۔ سنتے آئے ہیں کہ وقت آنے پر گدھے کو باپ بنانا پڑتا ہے۔۔ میری سمجھ سے پرے ہے کہ اب اس سے برا وقت کیا آئے گا۔۔ ہم تو گدھے کو بھی آزما چکے ہیں۔۔ اور ایک نہیں کئی گدھے آزمالئے۔۔ قومی اسمبلی ہو یا صوبائی اسمبلی، پارلیمنٹ ہو یا سینیٹ،  عدالت ہو یا تھانے، پریس کلب ہو یا کمیٹیاں اور کمیشنز۔۔ ہم نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا، ہماری پیٹھ پر چھرا گھونپا گیا۔۔ ہم نے ملکے چلنا چاہا تو ہماری مصلحت کو ہماری کمزوری بنادیا گیا۔۔ ہم اقلیت میں کیا ہوئے انکے تیور ہی بدل گئے، تو کیا کیا جائے ?? فیصلہ آپکو کرنا ہے کہ آپ ہمارا فیصلہ پاکستان کے آئین کے مطابق کرو گے یا ہم جینیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی قراردادیں سمیٹنا شروع کریں ??

Zarb-e-Azb.. ضرب عضب 

​یہ ضرب عضب ہو ہی نہی سکتی۔۔ کیونکہ عضب تو میرے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کی شمشیر مبارک کا نام تھا۔۔ میرے آقاؐ نے کبھی کسی مخلوق پر ہاتھ تک سے ظلم نہیں کیا کبھی کسی کو زبان سے نہیں دھتکارا۔۔ تو پھر عضب سےکسی مظلوم پر کیسے ضرب لگ سکتی ہے۔۔   میں ملّاوں کی نومولود شدت پسند اولادوں سے پوچھتا ہوں۔۔ کیا ضرب عضب کے نام پر کراچی میں بربریت پھیلانا اور انسانیت سوز مظالم کرنا بلاواستہ توہین رسالت نہیں ہے۔۔ یہ سارے ملک میں فتوے بانٹتے اور بکواس کرتے پھرتے ہیں کراچی کے لئے دولفظ کہتے انکی زبان ٹوٹتی ہے۔۔   میں سول سوسائٹی کی دیسی مسٹنڈیوں اور لبرل ازم کے پجاریوں سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے یہ سوال کبھی کیوں نہیں اٹھایا کہ۔۔ دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر جاری متنازعہ آپریشن کا نام ضرب عضب ہی کیوں رکھا گیا۔۔  اور جب رکھ لیا تو اس عضب کی ضرب صرف کرا چی کی ایک مخصوض قوم پر کیوں لگ رہی ہے۔۔ 

زرا سوچئے۔۔۔ پھرنوچئے۔۔۔ 

کراچی میں جاری آپریشن پر واہ واہ، عسکریت پسند رینجرز کی اٹھائی گیری، اور فوج کی کپورہ پوشی کرنے والے مذہبی شدت پسند اور دین میں ننگ پن کی گنجائش نکالنے کے حامی دیسی لبرل کبھی کراچی کی ان ماوٴں سے آکر ملیں جنکے جوان بیٹوں نے حق مانگنے کی پاداش میں سروں پر گولیاں کھائی ہیں۔۔ اس خاندان کے کسی ایک فرد سے بھی مل لیں کہ جنکے چراغوں کے جسموں میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔۔ اور اس جلادیت، حیوانیت، اور بربریت کو ضرب عضب کا نام دے کر ہمدردیاں سمیٹیں۔۔۔

 ذرا پھر سے سوچئے ۔۔ 

انجم ۔۔

ترکی میں فوج کا ٹیک اوور

​طیب اردوغان کا ساتھ ترکی کے لوگوں نے اس لئے دیا کہ طیب اردغان نے کبھی مذہب کا اور مسلمانوں کا ساتھ نہیں چھوڑا جہاں انہیں موقع ملا انہوں نے اپنی کیپیسٹی میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائی۔۔ ہمارے حکمرانوں کی باتوں پر انکے اپنے فالورز کان نہیں دھرتے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ انکا کاروبار ہی مذہب مخالف سرگرمیوں سے چل رہا ہے۔۔ لبرل ازم کا لبادہ اوڑھے ان روشن خیال بھیڑیوں کو بس موقع چاہئے اسلام کے خلاف بکواس کرنے کا۔۔ انہوں نے تو بڑی آسانی سے کہ دیا کہ ترکی کے عوام جمہوریت کو بچانے نکلے، ترکی کے عوام نے آمریت کو شکست دی وغیرہ وغیرہ۔۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس رات ترکی کے عوام عالم اسلام کے عظیم سپہ سالار کے حق میں باہر نکلے تھے۔۔ خود لبرل اسٹیٹ ہونے کے باوجود انہوں نے دیسی لبرلز کے بد نما چہرے پرایک کرارا تھپڑ رسید کیا۔۔

انجم۔۔

حدت ؟؟

اتوار کا روز تھا۔۔ دو دن سے شہر میں ہیٹ اسٹروک جاری ۔۔ سورج کی حدت اس قدر تھی کہ گھر سے قدم باہر رکھنے کو دل نہیں کرتا ۔۔۔ میں ٹی وی پر فلم دیکھتے دیکھتے بور ہو گیا تو سو چا خبریں دیکھ لیتا ہوں۔۔ میری حیرانگی کی اس وقت انتہا نہ رہی جب میں نے خبر پڑھی کہ کراچی آپریشن کے دوران لاپتہ افراد کے اہل خانہ دو دن سے پریس کلب پر سرا پا احتجاج ہیں ۔۔ سوشل میڈیا پر میں نے دیکھا کہ احتجاج کرنے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔۔ ایک پل کو تو بچوں کی سسکیاں سن کر میں بھی جذبات سے مغلوب ہو گیا ۔۔ مجھے کشمیر یاد آگیا ۔۔ جہاں لوگ مہینوں اپنے پیاروں دلاروں کی آس لگائے فوج کے دفتروں کے باہر خیمہ زن پڑے رہتے ہیں۔۔ بس چپ چاپ پڑے رہتے ہیں۔۔ انہیں نعرے لگانے کی اجازت نہیں ۔۔ وہ سڑکوں پر سراپا احتجاج نہیں ہو سکتے ۔۔ یہاں پریس کلب والوں کی حالت بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔۔ لیکن یہ تو اسی ملک کے شہری ہیں پھر انکے ساتھ ایسا سلوک کیوں ؟ دو روز قبل میری جامعہ سے کچھ طالبعلموں کو ماورائے قانون گرفتار کیا گیا تھا ۔۔ جو تاحال لاپتا ہیں ۔۔ انکے ساتھ ایسا سلوک کیوں۔۔ یہ احتجاج کرنے والے جگہ جگہ ہر چوک پر پندرہ ہزار شہیدوں کا ورد الاپتے ہیں۔۔ حالیہ آپریشن میں سینکڑوں افراد ایسے ہیں جنھیں میں جانتا تھا اور انکا اب کوئی پتا نہی ۔۔ معلوم نہیں زندہ بھی ہیں یاانہیں قتل کر دیا گیا۔۔ یہ لوگ اس ملک کے سب سے بڑے شہر کر شہری ہیں اور انکے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ سرخ ستارے والی تنظیم سے بھی زیادہ ابتر ہے ۔۔۔ سرخ ستارے والے تو محض نظر بند ہیں مگر یہ لو گ تو مکمل طور پر آئسولیٹ کر دئیے گئے ہیں۔۔ نہ انکو بولنے کی اجازت ہے نہ انکی کوئ سننے والا رہ گیا ہے ۔۔۔ پریس کلب پربیٹھ کر اپنے باپ کا انتظار کرتی ان بچوں کی آ نکھیں آج آئین و قانون دانوں کا دماغی چھنالا آج اچھی طرح سمجھا گئیں۔۔ ایک جانب تو یہ بچے تھے جو اپنے شہیدوں اور اسیروں کے لئے سورج کی تمازت ہنس کر سہہ رہے تھے۔۔۔ اور دوسری جانب انہی شہیدوں اور اسیروں کی لاشوں پر سب سے زیادہ اپنا حق جتانے والے باغ جناح میں ناچ گانے کا اہتمام کئے ہوئے تھے۔۔

مکا لمہ۔۔

یار آج ہیٹ اسٹروک اور سخت گرمی کی پیش گوئی ہے، یاد ہے نہ ہم نے کیا کور کرنا ہے، ہسپتالوں میں بھی وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ لیتی رہنی ہے،فٹ پاتھ والے لوگ اور بوڑھے مزدوروں پر زیادہ فوکس کرنا ہے، ایدھی سینٹر سے بھی مرنے والوں کی تعداد پتہ کرتے رہنی ہے، اسی سے ریٹنگز بڑھیں گی۔۔ لائٹ کن کن علاقوں میں نہیں ہے،..
فون بجتا ہے..!!
ہیلو ہاں جی کیا ہوا ایک شخص جسکی عمر ستر برس تھی جاں بحق ہو گ،ا اچھا ہیٹ اسٹروک سے ؟ اوکے اوکے۔۔
ہاں جی نیوز چلوا دو ایک ہو گیا۔۔
دوپہر ہونے کو آئی۔۔
دھول میں اٹی آنکھیں،
خمیدہ کمر،
اور اس پر وزنی بورہ،
انکل آپ ذرا اس طرف سے دوبارہ چل کر آجائیں کیمرے میں لانا ہے آپکو ۔۔

انٹرنیٹ کتاب کا نعم البدل ہے

انٹرنیٹ انگریزوں کی ایجاد کردہ وہ سہولت ہے جس کی بدولت آج ساری دنیا ایک دوسرے کے ساتھ جسم اور روح کی مانند جڑی ہوئی ہے۔۔۔
انٹرنیٹ کتاب کا نعم البدل ہے یہ جملہ قابل حمایت ہے ہم آج جس دور میں جی رہے ہیں اسے علمی سیلاب کا دور کہا جاتا ہے ،کمپیوٹر کی ایجادکے بعد،معلومات کا وہ سیلاب آیا ہے جس کے آگے انسان کود بھی بے بس سا نظر آنے لگا۔۔۔ بے شک کتاب انسان کی بہترین دوست ہے مگر عالی وقار دنیا جت کی صورت میں اس قدر تبدیل ہو چکی ہے کہ سوچنے سے لیکر انجام دینے تک ہر ایک چیر کا پیمانہ تبدیل ہو چکا ہے۔۔۔سیاسیات ،معاشیات ،ذرائع ابلاغ ،اور طاقت کی نمائش تک ہر اک چیز کا منظر نامہ بدل چکا ہے۔۔۔میں آج کے دور میں عالی وقاد انٹر نیٹ کو کتاب سے زیادہ مفید سمجھتا ہوں۔۔۔کیو نکہ اک زمانہ وہ بھی تھا  کہ جب لو گ اپنی آدھی عمر خط بھیجنے اور اسکا جواب کے انتظار میں گزار دیتے تھے۔۔اور اآج ہر شخص دنیا کو اپنی گنگر ٹپس پر لیکر گھوم رہا ہے۔۔
انیس سو ستر میں جب  امریکی خلائی جہاز اپولو13خلا میں گم ہوگیا تھا توناسا کو اسکی تلاش کا طریقہ معلوم کرنے میں 90 منٹ گےتھے اگروہ سائنسدان کاغذ اور قلم لیکر ان حسابکتاب کو اپنے ہاتھ سے سر انجام دے رہا ہوتاتوخود ناسا کے ایک تجزیہ نگار کے مطابق اسے اس کام کیلئے دس لاکھ سال درکار ہوتے ۔۔۔یہ فرق ہے کتاب کی رفتار اور انٹر نیٹ کی رفتار میں۔۔۔
مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی ہم انٹرنیٹ کو کتاب کے برابر کا درجہ کیوں نہیں دے سکتے۔۔۔کیا صرف اسی لئے کہ یہ انگریزوں کی ایجادہے؟اگر یہ مسلم سائنسدانوں کی ایجار ہو تا تو ہمارا موقف کیا ہوتا؟؟ہم مغرب سے اس قدر جلتے کیوں ہیں؟؟آج وہ اگر ہم سے 500سال آگے ہیں تو اسکے پیچھے انکی 1000سالہ محنت اور تجربہ ہے۔۔۔میرااختلاف رکھنے والوں سے سوال صرف اتنا ہے کے ہمارے پاس تو بھی تو ایک ہزار سال سے کتاب موجود تھی نہ ۔۔۔ ہمارے پاس بھی تو علم و شعور تھا نہ ۔۔۔پھر آج ہمارا یہ حال کیوں ہے؟؟ہم بے مثال ماضی ہونے کے باوجود دنیا میں کیوں ذلیل و خوار ہیں۔۔۔صرف اسی ذہنیت کی وجہ سے ۔۔۔اسی فکری شدت و یلغار کی وجہ سے۔۔۔
اور حزب اختلاف اور انکے حواری جو انٹرنیٹ کی اتنی مخالفت کر رہے ہیں ۔۔۔کوئی ان سے بھی تو پوچھے کے کیا یہ کتابوں سے زیادہ اپنا وقت انٹر نیٹ پر صرف نہیں کرتے۔۔۔؟؟
کہ دنیا میں اب تک جتنے سائنسدان کسی بھی زمانے میں پیدا ہوئے انکی مجموعی تعداد سے زیادہ سائنسدان آج اس دنیا میں موجود ہیں،اور وہ سائنسی معلومات میں دو ہزار صفحات فی منٹ اضافہ کر رہے ہیں،آ ج کل تقریباََ بیس کروڑ صفحات کے برابر تحریری مواد ہر روز انٹرنیٹ پر جاری ہو رہا ہے۔۔۔
مغرب کے پاس انٹرنیٹ تھا وہاں کا عام انسان ہم سے بہت بہتر ہے۔۔۔ہمارے پاس کتاب تھی کیا ہم اسکی روشنی میں جہالت کی روشنی سے نجات پاگئے۔۔۔؟؟رشتوں کا تقدس ہم کتاب والوں میں زیادہ ہے یا ان انٹرنیٹ والوں میں۔۔۔؟؟مخلص اور دیانتدار حکمراں ہم کتاب والوں میں زیادہ ہیں یا ان انٹرنیٹ والوں میں۔۔۔؟؟المختصر بات بہت سادہ ہے۔۔۔ ہم اس ردی کے ڈھیر کے علا وہ جب تک جدید دنیا اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو نہیں اپنائیں گے ہماری حالت تبدیل نہیں ہونے والی۔۔۔نہ ہماری بھوک بیماری اور افلاس میں کچھ کمی آئے گی۔۔۔نہ ہم کسی بھی قدرتی آفت سے خود کو بچا سکیں گے۔۔۔نہ ہم نے جنگوں کے تباہ کن اثرات سے محفوظ اور ظلم سے پاک معاشرے کے اصول تیارکر سکیں گے۔۔۔

Back to Conversion Tool